کیا کاروبار میں دھوکا دینا حرام ہے؟

حرام مال و کاروبار قرآن · 4 حدیث · 1

مختصر جواب

جی ہاں۔ قرآن خبردار کرتا ہے: ہلاکت ہے کم تولنے والوں کے لیے، اور پورا ناپنے اور تولنے کا حکم دیتا ہے (83:1-3، 11:85)۔ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے دھوکا دیا وہ مجھ سے نہیں۔

دلائل

قرآن

وَيْلٌۭ لِّلْمُطَفِّفِينَ ﴿١﴾

ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے

ٱلَّذِينَ إِذَا ٱكْتَالُوا۟ عَلَى ٱلنَّاسِ يَسْتَوْفُونَ ﴿٢﴾

جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں

وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ ﴿٣﴾

اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو کم کر دیں

وَيَٰقَوْمِ أَوْفُوا۟ ٱلْمِكْيَالَ وَٱلْمِيزَانَ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ﴿٨٥﴾

اور قوم! ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی کرتے نہ پھرو

حدیث

1 Sahih Muslim 102

It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) happened to pass by a heap of eatables (corn). He thrust his hand in that (heap) and his fingers were moistened. He said to the owner of that heap of eatables (corn):What is this? He replied: Messenger of Allah, these have been drenched by rainfall. He (the Holy Prophet) remarked: Why did you not place this (the drenched part of the heap) over other eatables so that the people could see it? He who deceives is not of me (is not my follower)

عربی متن (راویوں کے سلسلے کے ساتھ)

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلاً فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَلاَ جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَىْ يَرَاهُ النَّاسُ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي ‏"‏ ‏.‏

اسے حدیث لائبریری میں پڑھیں

یہ عمومی معلومات ہیں، فتویٰ نہیں۔ اپنی صورتِ حال کے لیے کسی مستند عالم سے پوچھیں۔

This page is translated with machine assistance and may contain mistakes. The English and Arabic versions are our reference. About our sources