کیا پیسے اور کھانے کا ضیاع حرام ہے؟

حرام مال و کاروبار قرآن · 3

مختصر جواب

جی ہاں۔ اللہ فضول خرچی سے منع کرتا ہے (7:31) اور فضول خرچی کرنے والوں کو شیطانوں کے بھائی کہتا ہے (17:26-27)۔ ضرورت اور استطاعت کے مطابق خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، اور کھانے یا پیسے کو بے فائدہ چیزوں میں ضائع کرنا گناہ ہے۔

دلائل

قرآن

۞ يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ خُذُوا۟ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَكُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ ﴿٣١﴾

اے نبی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزّین کیا کرو اور کھاؤ اور پیؤ اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

وَءَاتِ ذَا ٱلْقُرْبَىٰ حَقَّهُۥ وَٱلْمِسْكِينَ وَٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ﴿٢٦﴾

اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔ اور فضول خرچی سے مال نہ اُڑاؤ

إِنَّ ٱلْمُبَذِّرِينَ كَانُوٓا۟ إِخْوَٰنَ ٱلشَّيَٰطِينِ ۖ وَكَانَ ٱلشَّيْطَٰنُ لِرَبِّهِۦ كَفُورًۭا ﴿٢٧﴾

کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفر ان کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے

یہ عمومی معلومات ہیں، فتویٰ نہیں۔ اپنی صورتِ حال کے لیے کسی مستند عالم سے پوچھیں۔

This page is translated with machine assistance and may contain mistakes. The English and Arabic versions are our reference. About our sources