کیا کسی پر بے حیائی کی جھوٹی تہمت لگانا حرام ہے؟

حرام گفتگو و اخلاق قرآن · 2

مختصر جواب

جی ہاں۔ قرآن چار گواہوں کے بغیر پاک دامن لوگوں پر تہمت لگانے والوں کے لیے سخت سزا مقرر کرتا ہے (24:4)، اور ان پر لعنت کرتا ہے جو بے خبر پاک دامن مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں (24:23)۔ یہ کبیرہ گناہ ہے۔

دلائل

قرآن

وَٱلَّذِينَ يَرْمُونَ ٱلْمُحْصَنَٰتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا۟ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَٱجْلِدُوهُمْ ثَمَٰنِينَ جَلْدَةًۭ وَلَا تَقْبَلُوا۟ لَهُمْ شَهَٰدَةً أَبَدًۭا ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ ﴿٤﴾

اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا عیب لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو۔ اور یہی بدکردار ہیں

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَرْمُونَ ٱلْمُحْصَنَٰتِ ٱلْغَٰفِلَٰتِ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ لُعِنُوا۟ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ ﴿٢٣﴾

جو لوگ پرہیزگار اور برے کاموں سے بےخبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا وآخرت (دونوں) میں لعنت ہے۔ اور ان کو سخت عذاب ہوگا

یہ عمومی معلومات ہیں، فتویٰ نہیں۔ اپنی صورتِ حال کے لیے کسی مستند عالم سے پوچھیں۔

This page is translated with machine assistance and may contain mistakes. The English and Arabic versions are our reference. About our sources