هارون

15 / 25 16 آیات

ہارون موسیٰ کے بھائی ہیں، جنہیں اللہ نے نبی بنایا۔

1

اپنے گھر والوں میں سے ایک مددگار

موسیٰ اللہ سے عرض کرتے ہیں کہ ان کے بھائی ہارون کو مددگار مقرر کر دے، ان کی کمر مضبوط کرے اور ان کے کام میں شریک کرے، اور اللہ ان کی درخواست قبول فرماتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی رحمت سے موسیٰ کو ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر دیا۔

آیات دکھائیں (9)

وَٱجْعَل لِّى وَزِيرًۭا مِّنْ أَهْلِى ﴿٢٩﴾

اور میرے گھر والوں میں سے (ایک کو) میرا وزیر (یعنی مددگار) مقرر فرما

هَٰرُونَ أَخِى ﴿٣٠﴾

(یعنی) میرے بھائی ہارون کو

ٱشْدُدْ بِهِۦٓ أَزْرِى ﴿٣١﴾

اس سے میری قوت کو مضبوط فرما

وَأَشْرِكْهُ فِىٓ أَمْرِى ﴿٣٢﴾

اور اسے میرے کام میں شریک کر

كَىْ نُسَبِّحَكَ كَثِيرًۭا ﴿٣٣﴾

تاکہ ہم تیری بہت سی تسبیح کریں

وَنَذْكُرَكَ كَثِيرًا ﴿٣٤﴾

اور تجھے کثرت سے یاد کریں

إِنَّكَ كُنتَ بِنَا بَصِيرًۭا ﴿٣٥﴾

تو ہم کو (ہر حال میں) دیکھ رہا ہے

قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَٰمُوسَىٰ ﴿٣٦﴾

فرمایا موسیٰ تمہاری دعا قبول کی گئی

وَوَهَبْنَا لَهُۥ مِن رَّحْمَتِنَآ أَخَاهُ هَٰرُونَ نَبِيًّۭا ﴿٥٣﴾

اور اپنی مہربانی سے اُن کو اُن کا بھائی ہارون پیغمبر عطا کیا

2

ہارون اور بچھڑا

ہارون نے پہلے ہی لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ تم اس بچھڑے سے آزمائے جا رہے ہو، اور انہیں کہا کہ میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو۔ انہوں نے کہا کہ ہم موسیٰ کے لوٹنے تک اسی پر قائم رہیں گے۔ ہارون موسیٰ سے کہتے ہیں کہ لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالیں، اور موسیٰ دعا کرتے ہیں: “اے میرے رب، مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔”

آیات دکھائیں (7)

وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَٰرُونُ مِن قَبْلُ يَٰقَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِۦ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ ٱلرَّحْمَٰنُ فَٱتَّبِعُونِى وَأَطِيعُوٓا۟ أَمْرِى ﴿٩٠﴾

اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے۔ اور تمہارا پروردگار تو خدا ہے تو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو

قَالُوا۟ لَن نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عَٰكِفِينَ حَتَّىٰ يَرْجِعَ إِلَيْنَا مُوسَىٰ ﴿٩١﴾

وہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ ہمارے پاس واپس نہ آئیں ہم تو اس کی پوجا پر قائم رہیں گے

قَالَ يَٰهَٰرُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوٓا۟ ﴿٩٢﴾

(پھر موسیٰ نے ہارون سے) کہا کہ ہارون جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ گمراہ ہو رہے ہیں تو تم کو کس چیز نے روکا

أَلَّا تَتَّبِعَنِ ۖ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِى ﴿٩٣﴾

(یعنی) اس بات سے کہ تم میرے پیچھے چلے آؤ۔ بھلا تم نے میرے حکم کے خلاف (کیوں) کیا؟

قَالَ يَبْنَؤُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِى وَلَا بِرَأْسِىٓ ۖ إِنِّى خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِى ﴿٩٤﴾

کہنے لگے کہ بھائی میری ڈاڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے۔ میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا

وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَٰنَ أَسِفًۭا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِى مِنۢ بَعْدِىٓ ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى ٱلْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُۥٓ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ٱبْنَ أُمَّ إِنَّ ٱلْقَوْمَ ٱسْتَضْعَفُونِى وَكَادُوا۟ يَقْتُلُونَنِى فَلَا تُشْمِتْ بِىَ ٱلْأَعْدَآءَ وَلَا تَجْعَلْنِى مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ﴿١٥٠﴾

اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔ تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) جلد چاہا (یہ کہا) اور (شدت غضب سے تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجیے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایئے

قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِأَخِى وَأَدْخِلْنَا فِى رَحْمَتِكَ ۖ وَأَنتَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ﴿١٥١﴾

تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

یہ قصہ صرف قرآن سے لیا گیا ہے۔ دیگر کتابوں کی تفصیلات شامل نہیں کی گئیں۔

عربی متن: عثمانی رسم الخط۔ ترجمہ: Fateh Muhammad Jalandhry۔

انبیا کے بارے میں سوالات

نبی هارون کون تھے؟

ہارون موسیٰ کے بھائی ہیں، جنہیں اللہ نے نبی بنایا۔

هارون کا قصہ قرآن میں کہاں ہے؟

یہ طه 20:29–36, مريم 19:53, طه 20:90–94, الأعراف 7:150–151 میں ہے۔ یہ صفحہ ان آیات کو عربی میں اور آپ کی زبان میں دکھاتا ہے۔

This page is translated with machine assistance and may contain mistakes. The English and Arabic versions are our reference. About our sources