قرآن کی 81ویں سورت

سورۃ التكوير

مکی 29 آیات پارہ 30
التكوير

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

إِذَا ٱلشَّمْسُ كُوِّرَتْ ﴿١﴾

جب سورج لپیٹ لیا جائے گا

التفسیر المیسر (عربی)

وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتْ ﴿٢﴾

جب تارے بےنور ہو جائیں گے

التفسیر المیسر (عربی)

وَإِذَا ٱلْجِبَالُ سُيِّرَتْ ﴿٣﴾

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

التفسیر المیسر (عربی)

وَإِذَا ٱلْعِشَارُ عُطِّلَتْ ﴿٤﴾

اور جب بیانے والی اونٹنیاں بےکار ہو جائیں گی

التفسیر المیسر (عربی)

وَإِذَا ٱلْوُحُوشُ حُشِرَتْ ﴿٥﴾

اور جب وحشی جانور جمع اکٹھے ہو جائیں گے

التفسیر المیسر (عربی)

وَإِذَا ٱلْبِحَارُ سُجِّرَتْ ﴿٦﴾

اور جب دریا آگ ہو جائیں گے

التفسیر المیسر (عربی)

وَإِذَا ٱلنُّفُوسُ زُوِّجَتْ ﴿٧﴾

اور جب روحیں (بدنوں سے) ملا دی جائیں گی

التفسیر المیسر (عربی)

وَإِذَا ٱلْمَوْءُۥدَةُ سُئِلَتْ ﴿٨﴾

اور جب لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو پوچھا جائے گا

التفسیر المیسر (عربی)

بِأَىِّ ذَنۢبٍۢ قُتِلَتْ ﴿٩﴾

کہ وہ کس گناہ پرماری گئی

التفسیر المیسر (عربی)

وَإِذَا ٱلصُّحُفُ نُشِرَتْ ﴿١٠﴾

اور جب (عملوں کے) دفتر کھولے جائیں گے

التفسیر المیسر (عربی)

وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ كُشِطَتْ ﴿١١﴾

اور جب آسمانوں کی کھال کھینچ لی جائے گی

التفسیر المیسر (عربی)

وَإِذَا ٱلْجَحِيمُ سُعِّرَتْ ﴿١٢﴾

اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی

التفسیر المیسر (عربی)

وَإِذَا ٱلْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ ﴿١٣﴾

اور بہشت جب قریب لائی جائے گی

التفسیر المیسر (عربی)

عَلِمَتْ نَفْسٌۭ مَّآ أَحْضَرَتْ ﴿١٤﴾

تب ہر شخص معلوم کر لے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے

التفسیر المیسر (عربی)

فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلْخُنَّسِ ﴿١٥﴾

ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں

التفسیر المیسر (عربی)

ٱلْجَوَارِ ٱلْكُنَّسِ ﴿١٦﴾

(اور) جو سیر کرتے اور غائب ہو جاتے ہیں

التفسیر المیسر (عربی)

وَٱلَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ ﴿١٧﴾

اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے

التفسیر المیسر (عربی)

وَٱلصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ ﴿١٨﴾

اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے

التفسیر المیسر (عربی)

إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍۢ كَرِيمٍۢ ﴿١٩﴾

کہ بےشک یہ (قرآن) فرشتہٴ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

التفسیر المیسر (عربی)

ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى ٱلْعَرْشِ مَكِينٍۢ ﴿٢٠﴾

جو صاحب قوت مالک عرش کے ہاں اونچے درجے والا ہے

التفسیر المیسر (عربی)

مُّطَاعٍۢ ثَمَّ أَمِينٍۢ ﴿٢١﴾

سردار (اور) امانت دار ہے

التفسیر المیسر (عربی)

وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍۢ ﴿٢٢﴾

اور (مکے والو) تمہارے رفیق (یعنی محمدﷺ) دیوانے نہیں ہیں

التفسیر المیسر (عربی)

وَلَقَدْ رَءَاهُ بِٱلْأُفُقِ ٱلْمُبِينِ ﴿٢٣﴾

بےشک انہوں نے اس (فرشتے) کو (آسمان کے کھلے یعنی) مشرقی کنارے پر دیکھا ہے

التفسیر المیسر (عربی)

وَمَا هُوَ عَلَى ٱلْغَيْبِ بِضَنِينٍۢ ﴿٢٤﴾

اور وہ پوشیدہ باتوں (کے ظاہر کرنے) میں بخیل نہیں

التفسیر المیسر (عربی)

وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَٰنٍۢ رَّجِيمٍۢ ﴿٢٥﴾

اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں

التفسیر المیسر (عربی)

فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ ﴿٢٦﴾

پھر تم کدھر جا رہے ہو

التفسیر المیسر (عربی)

إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌۭ لِّلْعَٰلَمِينَ ﴿٢٧﴾

یہ تو جہان کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے

التفسیر المیسر (عربی)

لِمَن شَآءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ ﴿٢٨﴾

(یعنی) اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے

التفسیر المیسر (عربی)

وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿٢٩﴾

اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو خدائے رب العالمین چاہے

التفسیر المیسر (عربی)

التكوير آیت 1 از 29

عربی متن: عثمانی رسم الخط۔ ترجمہ: Fateh Muhammad Jalandhry۔ آڈیو: everyayah.com۔

سورۃ التكوير کے بارے میں

سورۃ التكوير (التكوير) قرآن کی 81ویں سورت ہے۔ اس میں 29 آیات ہیں اور یہ پارہ 30 میں واقع ہے۔ اسے مکی سورت شمار کیا جاتا ہے، یعنی یہ بیشتر نبی ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔

اس کا نام، التكوير، عربی میں اس سورت کی پہچان ہے۔

سورۃ التكوير کے بارے میں سوالات

سورۃ التكوير میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ التكوير میں 29 آیات ہیں۔

کیا سورۃ التكوير مکی ہے یا مدنی؟

درجہ بندی: مکی۔

سورۃ التكوير کس پارے میں ہے؟

سورۃ التكوير پارہ 30 میں ہے۔

میں سورۃ التكوير کہاں سن سکتا ہوں؟

اسے آیت بہ آیت سننے کے لیے اس صفحے پر پلے دبائیں، قاری: عبدالرحمٰن السدیس، مشاری العفاسی، محمود خلیل الحصری، عبدالباسط عبدالصمد، ماہر المعیقلی، سعد الغامدی، احمد العجمی، ابوبکر الشاطری، ہانی الرفاعی، محمد صدیق المنشاوی، علی الحذیفی، محمد ایوب، عبداللہ بصفر، یاسر الدوسری، ناصر القطامی، صلاح البدیر، سعود الشریم، عبداللہ عواد الجہنی، محمد جبریل۔

This page is translated with machine assistance and may contain mistakes. The English and Arabic versions are our reference. About our sources